menu close
    stories
    July 02, 2018

    ایل این جی ٹرمینل: توانائی کی قلت کو پورا کرنے کا ایک اقدام

    گزشتہ ایک دہائی سے، پاکستانی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سالوں سے گیس کی تلاش میں کمی ہورہی ہے جبکہ توانائی کی طلب میں قابل ذکر اضافہ واقع ہوا ہے۔ قدرتی گیس کا اخراج 4.2بلین کیوبک فٹ روزانہ رہ گیا ہے لیکن طلب 6.2بلین کیوبک فٹ برقرار رہی۔ مزید براں، ملک کے تمام شعبہ جات سے بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو موثر انداز میں پورا کرنے کے لیے روزانہ 8بلین کیوبک فٹ گیس مطلوب ہے۔ ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کی کوششوں میں سے، ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈقیمتی گیس کی درآمد کے لیے بہت ہی قلیل مدت میں LNG ٹرمینل لگانے پر تیزی سے کام کررہاہے۔

    اس ضمن میں، حکومتی تعاون سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران حوصلہ افزا امور انجام دیئے گئے ہیں۔ملک کے سب سے پہلے ایل این جی ٹرمینل پر کام تیزی سے جاری ہے اور جنوری 2015میں مکمل ہونے والاہے جوکہ اپنی تکمیل کی مدت سے 60دن قبل مکمل ہونے جارہا ہے۔

    SSGC کو فراہمی میں آسانی کے لیے، اینگرو ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ پاک لینڈ SMS تک 42انچ قطر کی تقریباً16کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا رہی ہے۔ ETPL ٹرمینل سے گیس کسٹڈی ٹرانسفر یونٹ تک سات کلومیٹر طویل ایک اضافی پائپ لائن بھی تعمیر کی جارہی ہے۔

    اس کے علاوہ جیٹی پر کام بھی جاری ہے۔ سطح سمندر سے 14.5میٹر گہرائی میں ڈریجنگ کا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔جیٹی کی سائز 500میٹرز سے زیادہ ہوگی۔

    ٹرمینل کوپہلے معاہدے میں مطلوب مقدار سے 50فیصد زائد مقدار کو ہینڈل کرنے کے اعتبار سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس سے گھریلو صارفین اور پاور،سیمنٹ، اوراسٹیل اور سی این جی گیس اسٹیشن مالکان کے استعمال کے لیے 200 mmcf روزانہ RLNG فراہمی کرنے کے لیے توازن برقرار رکھا جاسکے گا۔

    ٹرمینل کی تعمیر پر 150ملین امریکی ڈالرز کی خطیر رقم خرچ ہونے کی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اینگرو گروپ کی جانب سے برج فنانسنگ کے ذریعے اس کی فنڈنگ کے انتظامات کئے گئے ہیں۔آئی ایف سی (انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن) اور اے ڈی بی (ایشین ڈیولپمنٹ بینک) پروجیکٹ کو فنڈ کرنے کے لیے لازمی احتیاط کی تصدیق کرتے ہیں۔

    اینگرو اس کام کو نہ صرف تیزی سے انجام دے رہا ہے بلکہ علاقے میں سستے ترین ہینڈلنگ چارجز پیش کررہا ہے۔ اس طرح یہ پروجیکٹ کمپنی کے لیے ایک منفرد اور مشکل اقدام بن چکا ہے۔