menu close
    stories
    July 11, 2018

    ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر (TTC) ملکی نوجوانوں کو مہارتوں سے مزین کررہا ہے۔

    پاکستان دیہی آبادی پر مشتمل غریب شہریوں کا ملک ہے جنہیں انسانی ترقی سے فائدہ اٹھانے کی محدود رسائی حاصل ہے۔اس وقت ملک میں 120ملین افراد 30سال کی عمر سے کم کے نوجوان ہیں جن میں سے 1فیصد سے بھی کم ہنر یافتہ ہیں۔دیہوں علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں پر کہیں سے بھی مہارت یافتہ افرادکو ملازم رکھنے کے لیے دباؤرہتاہے جس سے مقامی افراد میں معاشی عدم توازن اور بیروزگاری میں اقربا پروری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

    2050تک، ملک میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 236ملین ہوجائے گی جن میں سے 2.5ملین سے بھی کم تربیت یافتہ ہنر مند افراد موجود ہوں گے۔

    ملک میں تبدیلی کے لیے کوشاں، پاکستان کیمیکل اینڈ انرجی سیکٹر اسکلز ڈیولپمنٹ کمپنی (PCESSDC) کا قیام 2009میں ایک غیر منافع بخش پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ادارے کے تحت عمل میں لایا گیا تاکہ غریب نوجوانوں کو اعلیٰ معیار ی مہارتوں کی تربیت تک رسائی حاصل ہوسکے۔

    ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر ڈپلوماز آف ایسو سی ایٹ (DAE) مکینکل اینڈ کیمیکل انجینئرنگ پیش کرتا ہے اوراس میں کئی قسم کے ووکیشنل اسکلز، جیسا کہ ویلڈنگ ٹریننگ(بیسک، ایڈوانسڈ)، کارپینٹری ٹریننگ، پلمبنگ اور جنرل فٹنگ ٹریننگ، آٹو الیکٹریشن ٹریننگ اور کمپیوٹر گرافک ٹریننگ کے ساتھ اور بھی تربیت شامل ہے۔

    ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر مہارتوں کی تربیت کاایسا اقدام ہے جو دیہی علاقوں کے غریب نوجوانوں کو تربیت فراہم کرتا ہے جس سے ان نوجوانوں اور ان کے خاندان کی ترقی کے ساتھ غربت کا خاتمہ ہوتا ہے اور مہار ت کی بنیاد پر آمدنی کے حصول کی طرف سوچ کو بدلنے میں مدد ملتی ہے۔

    اس طرح کی ایک مثال گھوٹکی،سندھ سے تعلق رکھنے والا نوجوان محمد ہے جو TTC میں تیسرے سال کا اسٹوڈنٹ ہے۔ یہ نوجوان اپنے والدین کا بڑا بیٹا ہے جس کے کندھوں پر ان کے والد کے انتقال کے بعد گھر کے 6افراد کی ذمہ داری ہے۔وہ TTC میں تربیت کے سبب اپنے مستقبل سے پر امید ہے، ”آج میں تعلیم کی اہمیت کو دیکھ رہا ہوں، مکنیکل انجینئر بننے کے لیے تعلیم حاصل کرکے، میں اپنے خاندان اور علاقے کی ترقی کے لیے کام کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ موقع ہمیں فاقہ کشی سے محفوظ رکھے گا۔

    PCESSDC کی فیکلٹی وسیع تجربہ رکھنے والے اعلیٰ مہارت یافتہ ممبرز پر مشتمل ہے۔

    یہ ادارہ برگیڈیئر راجا علی کی قیادت میں چلایا جارہا ہے، جو خود مہارتوں کی تربیت اور صلاحیتوں کی تعمیر میں 30سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔TTCکے طلباء نے صوبائی بورڈ کے امتحانات میں 10میں سے 8پوزیشنز اپنے نام کی ہیں۔

    TTC جیسے ادارے پاکستان کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ ہنر کی تربیت سے ورک فورس کی مہارت کی سطح میں بہتری آتی ہے جس سے معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،پیداواری سطح میں اضافہ اور بیروزگاری میں کمی آتی ہے۔اس کے ساتھ، مہارتوں کے حصول سے پسماندہ علاقوں میں ملازمت کے مواقع پیدا ہونے سے علاقائی عدم مساوات کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔