menu close
    stories
    August 09, 2018

    سونا دیوی، تقدیرکانیا رخ

    تھر پارکر ریجن میں زچہ اور بچہ کی اموات میں ہوشربا اضافے سے پریشان، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (SECMC)نے اپنی تھر فاؤنڈیشن کے ذریعے 2015میں ماروی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کلینک کے نام سے ایک کلینک کھولا، یہ کلینک SECMCکے مرکزی سائٹ آفس میں کھولا گیا۔ اس ہفتہ روزہ کلینک کو چلانے کے لیے کئی مقامی کمیونٹی ممبران کی خدمات حاصل کی گئی جبکہ اسلام کوٹ کی مقامی فارمیسی سے ڈسپینسری اسٹاف کو بھی مصروف عمل کیا گیا۔

    اس کلینک کے فوائدکو بڑھانے کے پیش نظر اور زچگی سے متعلق علاج کی فراہمی کے لیے، فروری2017میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شمس الدین شیخ اور انڈس ہسپتال کے سی ای او عبدالباری کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق انڈس ہسپتال کو اس کلینک کو چلانے اور انتظام سنبھالنے کا اختیار دیا گیا۔ یہ کلینک مکمل طورپر فعال اور ایک اسپیشلائزڈ فیمیل گائناکولوجسٹ، ایک ماہر نرس، ایک الٹرا ساؤنڈ مشین سے لیس ہونے کے ساتھ زچہ وبچہ سے متعلق طبی چیک اپ،مفت مشورہ اور ادویات فراہم کررہا ہے۔ اس کلینک میں سالانہ تین ہزار سے زائد مریض علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔

    پاکستان میں نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح تقریباً 1000میں 66ہے،اب تک یہ ساؤتھ ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور تھر میں 5سال سے کم عمر کے بچوں میں اموات کی شرح پورے ملک سے زیادہ ہے۔ہماری قوم کے بچوں کو محفوظ رکھنے کی جنگ میں تھر سب سے پیچھے ہے۔ یہ ہی وہ جنگ ہے جس سے بدقسمتی کے ساتھ جنگجو پیدا ہوتے ہیں۔۔۔

    یہ ایک خاتون کی غیر معمولی کہانی ہے جو مستقل طورپرزندگی کو موت کی حالت سے بچاتی رہتی ہے۔اپنے کورس کے لیے اینگرو کی مدد سے،سونا دیوی اپنے گاؤں کی پہلی مڈوائف بننے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسے اینگرو کے تعاون سے ماروی مدر اینڈ چائلڈ کلینک میں مڈوائف بننے کے لیے داخلہ دیا گیا۔ یہ ہے اس کی کہانی۔