menu close
    stories
    July 18, 2018

    وزیر زراعت نے اینگرو کے پروگرام رہبر کو سراہا

    رہبر پروگرام اینگرو فرٹیلائزر اور اینگرو فاؤنڈیشن کا انی شیٹیو ہے جس میں کسانوں کو پانی کی بچت اور کاشتکاری کے جدید طریقوں سے آگاہی دی جارہی ہے تاکہ ان کی آمدن میں بہتری آئے۔ یہ پروگرام صرف کسانوں کو کاشتکاری اور بچت کے جدید طریقوں سے ہی متعارف نہیں کرواتا بلکہ فصل کی جدید مشینری اور ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کرواتا ہے۔اس منصوبے کا آغاز ستمبر 2015ء میں شیخوپورہ میں کیا گیا اور اس پروگرام کے توسط سے اب تک5000کسانوں کوآگاہی دی جاچکی ہے اوررہبر کے تحت لگنے والی فصل میں پرانے طریقہ کار کے قابلے 26فیصد واضع بہتری آئی ہے۔ مستقبل قریب میں سندھ اور پنجاب کے بارہ ضلعوں کے تقریباً500,000کسان رہبر پروگرام سے مستفید ہونگے۔ اینگرو فرٹیلائزر کی ٹیم سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے زراعت و خوراک سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ اینگرو کا رہبر یقیناًقابل تحسین اقدام ہے جس کی بدولت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصل کی پیداوار بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھائی جاسکے گی۔ رہبر پروگرام اینگرو کا ایک منفرد اقدام ہے جو زرعی شعبے میں اصلاحات متعارف کروا رہا ہے۔
    ا
    اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان میں فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنانا اور ملک میں دیر پا ترقی کے سفر کو قائم رکھنا ہے۔ وزیر خوراک نے کسانوں کی مدد کرنے کے حوالے سے اینگرو کے رہبر پروگرام کو سراہا۔ کیونکہ کسان ملک کی فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاہم پرانے طریقوں کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہورہی ہے ان چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے اینگرو نے رہبر پروگرام کا آغاز کیا۔

    انٹر نیشنل واٹر منیجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے مطابق پاکستان کی 2.1 ہیکٹر ملین اراضی کو 2025میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ اس سنگین خطرے کو ٹالنے کے لئے رہبر پروگرام کے توسط سے کسانوں کو پانی کی بچت اور کاشتکاری کے جدید طریقوں سے آگاہی دی جارہی ہے۔