menu close
    stories
    August 09, 2018

    ناامیدی سے شان وشوکت تک: مشتاق احمد کی زمین کے ساتھ محنت کا بہترین صلہ کس طرح سامنے آیا؟

    اینگرو کے ”شیئرڈ ویلیو“کے جذبے کے پیچھے معاشرے کی بہتری کے بعد ہی اقتصادی ترقی ممکن ہونے کا راز چھپا ہوا ہے، اسی سلسلے میں اینگرو نے فارمرکنیکٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا،جو کہ باہر ”رہبر“ کے نام سے مشہور ہوا،یہ اکتوبر2015میں ضلع شیخوپورہ میں شروع کیا گیا۔ اس پروجیکٹ کا مقصد سندھ اور پنجاب کے چاول اورگندم کی کاشت والے علاقوں کے چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کسانوں صلاحیت میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے فصلوں کی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کیا جائے، اس کے لیے انہیں بیسٹ کراپ مینجمنٹ پریکٹسز (BCMP)کا استعمال اور کاشتکاری کی جدید مہارتوں کا تعارف کرایا گیا۔ پنجاب میں اس پروگرام میں شرکت کو 12.5ایکڑ زمین کا مالک ہونا اور سندھ میں 25ایکڑ زمین کے مالک کو اہل قرار دیا گیا۔

    اس پروگرام میں کسانوں کو بیجائی اور زمین کی تیار ی کے اہم اوقات سے آگہی، جڑی بوٹیوں پر کنٹرول،آبپاشی اور یوریا کے استعمال اور فصل کی کٹائی اور کٹائی سے قبل کے اہم امور سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔یہ تربیت کسانوں کے ڈیروں پر منعقد کی گئی اور ٹرینی فیلڈز میں BCMPsکے مطابق عملی تجربات بھی انجام دیئے گئے۔اس کے ساتھ رجسٹرڈ کسانوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے موسمی حالات اور متعلقہ مشورہ جات سے مسلسل رہنمائی اور آگہی دی گئی۔ اس پروگرام کا اہم جز توانائی کی بچت کا عملی نمونہ اور زیرو ٹائلیج ڈرل کے استعمال سے ”ہل چلائے بغیر بیجائی“ کا ماحول دوست تجربہ رہا۔

    اس کے فوائد شاندار،فوری اور حیران کن تھے۔ تیسرے فریق کی سروے کے مطابق گندم کی پیداوار میں 26فیصد اضافہ حاصل ہوا اور پانی کی 15فیصدبچت ہوئی۔جب آپ غور کریں گے کہ پاکستان میں 97فیصد پانی زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس پروگرام کے نتائج قومی مفاد اور فوری عمل درآمد کا تقاضہ کرتے ہیں۔

    اس پروگرام کے عام کسان کی زندگی پر اثرات کو حقیقی معنی میں سمجھنے کے لیے براہ مہربانی یہ ویڈیو دیکھیں کی اس پروگرام میں شرکت کے بعد کس طرح مشتاق احمد گھریلو ضروریات کی تکمیل میں پریشانیوں سے نکل کراپنی پیداوار ڈبل کرنے میں کامیاب رہا، اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہوئے کچھ بچت بھی کررہے ہیں۔