menu close
    stories
    August 09, 2018

    تعلیم کا گلشن: اپنی نسل کی بقاء کے لیے کس طرح ارشاد علی لاکھانی اپنے علاقے کی طرف لوٹا؟

    گھوٹکی،سند ھ میں دریائے سندھ کے دونوں اطراف کا علاقہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور ڈاکوؤں کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونے کے سبب بہت پیچھے رہ جانے کے ساتھ وہاں کی رسائی بھی بہت مشکل ہے۔یہاں پر حکومتی سہولیات اور سول سوسائٹی کا تعاون ناپید ہے۔ علاقے میں ماحول اور رسائی کے شدید مسائل کی بدولت اپنے تاریخ کے دشوارترین کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی اقدامات میں سے ایک اقدام کے طورپر اینگرو نے اس علاقے میں کچے کی ایریا میں 13اسکولوں کی ذمہ داری اٹھائی۔

    اینگرو ان اسکولز کو 17سال سے چلا رہا ہے۔ اس مدت میں اس علاقے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ علاقے کے سابقہ جرائم پیشہ افرادنہ صرف بہتر زندگی کی طرف لوٹے ہیں بلکہ وہ دیگر اسکولوں کی بہتری کے لیے اینگرو سے تعاون کررہے ہیں اور مقامی افراد کو بچے اسکول میں داخل کرنے کے لیے تیار کررہے ہیں۔2015میں اینگرو فاؤنڈیشن نے مقامی افراد کو مزید بااختیار بناتے ہوئے تعلیمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی خودمختار ادارہ قائم کیاکچا ڈویلپمنٹ ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے مشہور اس ادارے کو مقامی زمیندارچلاتے ہیں جس میں اینگرو فاؤنڈیشن سے دو ممبر شامل تھے۔ اس کے روزمرہ کے امور کچا کے نوجوان چلاتے ہیں۔ اینگرو پرامید ہے کہ نہ صرف اینگرو بلکہ دیگر کارپوریٹ ادارے بھی ملک بھر میں اس طرح کے کارپوریٹ پارٹنر شپ ماڈلزکے ذریعے معاشرتی تعلقات بڑھاسکتے ہیں۔

    اس مشکل اور دشوار علاقے میں تبدیلی کی علامت کے طورپر ارشادعلی کی طاقتور کہانی سامنے آتی ہے جوکچا کے اس علاقے میں اینگرو کے اسپانسر کردہ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے گئے اور گیارہ سال بعد وہی ارشاد اس اسکول میں پڑھانے میں مصروف ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی پوری نسل کے بچے زندگی کی درست سمت میں آگے بڑھیں۔