menu close
    stories
    July 15, 2018

    تھر بلاک IIمیں کان کنی اور توانائی کے منصوبوں کا تاریخی سنگ میل

    ر تھر بلاک II میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) اور EPTL کے زیر اہتمام کان کنی اور پاور منصوبوں کی مالیاتی کلوز کی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت پاکستان EPTLکے حق میں نے اپنی ضمانت جاری کردی ہے۔اس اہم سنگ میل کے علاوہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپچ کمپنی کی طرف سے تھر سے مٹیاری تک 500 کلو وی ڈی / سرکٹ ٹرانسمیشن لائن بھی قائم کی جائے گی۔ یہ پاکستان میں انرجی سیکورٹی اور تھر کی ترقی کے خواب کو حقیقت بنانے کے نئے دورکا آغاز ہے۔مستقبل میں انرجی سیکیورٹی کے لئے پہلی بار ہم تھر پارکر میں موجود مقامی کوئلے کے ذخائر پر انحصار کریں گے۔یہ ثمرات کئی دہایوں کی مسلسل کوششوں کے بعد حاصل کئے جارہے ہیں۔فیز 1میں منصوبوں کوضروری تمام فارمیلیٹیز کو مکمل کرنے کے بعد فیز II کے لئے حب پاور کمپنی اور تھال ۔ نووا پاور لمیٹڈ کی طرف سے کان کنی اور پاور پلانٹ کی توسیع کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ایس ای سی ایم سی، سندھ گورنمنٹ، اینگرو پاورجن اور ملحقہ اداروں، تھل لمیٹڈ (حبیب ہاؤس)، حب پاور کمپنی، حبیب بینک لمیٹڈ، چین مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی سی ای سی) اور اسٹیٹ پاور انٹرنیشنل مینڈونگ (ایس پی آئی ایم ) کی مشترکہ جائنٹ وینچر کمپنی ہے۔یہ کمپنی تھر بلاک IIمیں موجود1.57لگنائیٹ کوئلہ کے زخائر کو نکالنے کی زمہ دار ہے۔اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران ایس ای سی ایم سی3.8 ملین ٹن کوئلہ نکالنے کی صلاحیت حاصل کرے گی۔اس کوئلے کو 2X330 میگاواٹ کے بجلی پلانٹ میں توانائی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ پلانٹ اینگرو پاورجن لمیٹڈ قائم کررہی ہے جواینگرو پاورجن،چائنہ مشینری اینڈ انجینئرنگ کمپنی، حبیب بینک لمیٹڈ اور لبرٹی ملز لمیٹڈ کی جائنٹ وینچر کمپنی ہے۔دونوں منصوبوں کے فیز I کے لئے سی او ڈی 2019ء کے وسط تک ہونے کی امید ہے۔ ایس ای سی ایم سی، سندھ گورنمنٹ، اینگرو پاورجن اور ملحقہ اداروں، تھل لمیٹڈ (حبیب ہاؤس)، حب پاور کمپنی، حبیب بینک لمیٹڈ، چین مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی سی ای سی) اور اسٹیٹ پاور انٹرنیشنل مینڈونگ (ایس پی آئی ایم ) کی مشترکہ جائنٹ وینچر کمپنی ہے۔دونوں منصوبوں کی لاگت کا تخمینہ تقریبا 2 بلین امریکی ڈالرہے۔
    اس منصوبے کی کامیابی میں وفاقی حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔حکومت کی طرف سے 700 ملین ڈالرکی خود مختار ضمانت کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کا کردار اور گزشتہ سال کے آغاز میں منصوبے کو چین پاک اقتصادی کوریڈور (سی پی ای سی) کا حصہ بنانے سے بر وقت فنانشل کلوز حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔این ڈی ٹی سی کی طرف سے تعمیر کردہ 250 میٹر ٹرانسمیشن لائن، تھر بلاک 2 سے مٹیاری پیدا ہونے والی بجلی کو گرڈ میں شامل کرے گی۔ پی پی آئی بی کی جانب سے فراہم کردہ بہترین معاونت کے لئے EPTL نے ایک تاریخی پی پی اے اور آئی اے آئی پر دستخط کئے۔ حکومت پاکستان کے دیگر ڈیپارٹمنٹ سمیت وزیر اعظم سیکرٹریٹ، مالیاتی وزارت، اور پانی و بجلی کی وزارت نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔منصوبے کے 51 فیصد حصص کی مالک صوبائی حکومت سندھ نے بھی منصوبے کے کامیاب آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    تھر بلاک II میں کان کنی کے منصوبے کے (JV) پارٹنر اور ڈویلپر کے طور پر حکومتِ سندھ تمام لازمی بنیادی ڈھانچے اور سہولیات پر تیزی سے کام کررہی ہے۔علاقے میں منصوبے سے جڑے آپریشنز کو اہم بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں پانی کی فراہمی اور گراؤنڈ واٹر کو نکالنے کے لئے نکاسی آب کی لائن، اس کے لئے حکومت سندھ نے ایس ای سی ایم سے کے ساتھ امپلی مینٹیشن کے معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت سندھ حکومت نے منصوبوں کو ضروری تمام بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے600ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔اب انفراسٹرکچر کی ترقی پر کام تیزی سے جاری ہے جس میں سڑکوں کی چوڑائی کا کام ، پلوں اور بائی پاس کی تعمیر۔ اس کے علاوہ اسلام کوٹ میں ایک چھوٹا ہوائی اڈا بھی قائم کیا جارہا ہے۔دسمبر 2015ء میں ایک اور سنگ میل عبور کیا گیا جب جب حکومتِ سندھ نے EPTLکے ساتھ واٹر یوٹیلائزیشن کے معاہدے پر دستخط کئے جس کے بعد بجلی گھر کے منصوبے کو ضروری پانی کی سپلائی کو یقینی بنادیا گیا۔کوئلے کی قیمتوں کا تعین کرنے کا مینڈیٹ تھر کول اور انرجی بورڈ (TCEB) کے پاس ہے۔گزشتہ سال، ایس ای سی ایم سی کی طرف سے ٹیرف کی درخواست کے جواب میں بورڈ نے ابتدائی 3.8 ایم ٹی پی کا ٹیرف متعارف کرایا اور توسیع کو بھی منظور کیا۔نیپرا نے جولائی 2014 میں تھر کوئلہ کی بنیاد پر بجلی کے منصوبوں کے لئے پہلے سے ہی ایک تفصیلی پیش رفت جاری کی تھی۔نیپرا نے جولائی 2014 میں تھر کوئلہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والی بجلی کے ریٹ پر تفصیلی ٹیرف جاری کیا تھا۔ دونوں ریگولیٹری ادارے تھر کے لوگوں کی ترقی اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔بھرپور کان کنی کے وقت تھر بلاک IIکا ٹیرف ڈالر 6c/Kwh ہوگا جو ملک میں دستیاب دیگر آپشنز میں سب سے سستا ہے۔فنانسگ کے محاذپر دونوں کمپنیوں کے حصص دارمنصوبے کے عمل کو ہموار رکھنے کے لئے500ملین ڈالر کی رقم فراہم کریں گے۔

    بیجنگ میں سال 2015ء میں دونوں منصوبوں کے لئے مقامی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ مختلف معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ان معاہدوں کے تحت، مقامی بینکوں کا سنڈیکیٹ کان کنی کے لئے 500 ملین ڈالر اور بجلی پلانٹ کے لئے 240 ملین امریکی ڈالر فراہم کریں گے۔مقامی سنڈیکیٹ میں حبیب بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، بینک الفلاح لمیٹڈ، نیشنل بینک پاکستان اور فیصل بینک لمیٹڈ شامل ہیں جبکہ چینی بینکوں کے سنڈیکیٹ میں چائینہ ڈویلپمنٹ بینک،کنسٹرکشن بینک آف چائینہ اور آئی سی بی سی شامل ہیں جو دونوں منصوبوں کے لئے820ملین ڈالر کے قرضے دیں گے۔دونوں کمپنیاں تھر کے باشندوں کی دیکھ بھال، صحت اور فلاح کی اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر واقف ہیں۔ کئی مشہور مقامی اور بین الاقوامی اداروں، جن میں ہگلر بیللی اور ایس آر کے برطانیہ شامل تھے،نے منصوبوں کے امکانات اور سماجی و اقتصادی اثرات کا کلیدی اور تنقیدی جائزہ لیا۔سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی طرف سے جاری این سی او کے ساتھ ساتھ ان بین اداروں کے مطالعات کو عالمی قومی ماحولیاتی معیار اور عالمی بینک کے متعین کردہ بہترین صنعت کے طریقوں سے مطمئن کرنا ہوگا۔منصوبے کے دوران بلاک IIمیں قائم دو گاؤں منتقل کردیئے جائیں گے۔یہاں کے باشندوں کے لئے ماڈل گاؤں تیار کئے جارہے ہیں جس کو پاکستان کے بہترین ڈیزائنرز اور ٹاؤن پلانرز تیار کررہے ہیں جن میں تمام سہولیات موجود ہونگی۔ایس ای سی ایم سی نے بین الاقوامی پالیسیوں پر مبنی ایک آبادکاری ایکشن پلان تیار کیا ہے جسے سندھ حکومت نے بھی منظور کیا ہے۔ اس میں عالمی بینک کی ’ غیر رضاکارانہ منتقلی ‘پر گائیڈ لائنز کو مکمل طورپر فالو کیا گیا ہے۔علاقے میں ترقی دینے سے یہاں کے باشندوں کو روزگار اور کاروبار کرنے کے مواقع ملیں گے تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔میڈیکل سہولیات سے بھی استفادہ حاصل کریں گے اور انفراسٹرکچر کے بہتر ہونے سے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ مقامی کمیونٹی کی طرز زندگی کی حفاظت اور بہتر بنانا کمپنی کی ہمیشہ سب سے اہم ترجیح ہوتی ہے اور مقامی آبادی ترقی سے فائدہ اٹھائے گی ناکہ انہیں کسی قسم کا نقصان ہو۔ مختصراً انتظار ختم ہو چکا ہے اور تھری خواب وفاق اور صوبائی حکومتوں کی بھرپور معاونت اور مقامی اور بین الاقوامی کارپوریشنز اور بینکوں کی حمایت سے اب حقیقت بننے جارہا ہے۔ یہ منصوبہ ہمارے ملک کے لئے ایک نئی مثبت تبدیلی کی نوید ہے یہ منصوبہ ناصرف توانائی کے بحران کا مستقل حل بنے گا بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لئے ملک میں انرجی سیکیورٹی اور براہ راست سرمایہ کاری کے در کھول دے گا۔