menu close
    press releases
    June 24, 2020

    پاکستان اونشور ایل این جی نے ملک کے پہلے اونشور(Onshore) ایل این جی ٹرمینل کے قیام کیلئے درخواستیں طلب کرلیں

    اینگرو کارپوریشن اور ووپاک ایل این جی ہولڈنگ بی۔وی (Vopak LNG Holding B.V.) کے مشترکہ منصوبے ایل این جی ٹرمینل پاکستان لیمیٹڈ (Elengy Terminal Pakistan Limitedٌ) پورٹ قاسم کراچی پر واقع پاکستان اونشور ایل این جی منصوبے پر ملٹی فنکشنل ایل این جی اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن ٹرمینل کی ڈیزائن، تعمیراورچلانے کے ارادے کا اظہارکیا ہے۔ اس سلسلے میں منصوبے نے تمام فریقین کو اظہارِ دلچسپی کی دعوت دی ہے جو منصوبے سے ری گیسیفیکیشن، اسٹوریج اور دیگر آپریشنل خدمات(بنکرنگ، ٹرکنگ، ری لوڈنگ) کوحاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    منصوبے پر حتمی سرمایہ کاری کے آخری فیصلے کے تحت انڈسٹری اوپن ایکسس بزنس ماڈل کومدِنظر رکھتے ہوئے ایک آنشور ٹرمینل تعمیر کیا جائے گاجس کی روزانہ کی گیس کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت1200ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ جبکہ سالانہ 480,000کیوبک میٹر گیس ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔توقع ہے کہ ٹرمینل 2023میں کمرشل آپریشن شروع کردے گا۔

    کمپنی سے جاری اعلامیئے کے مطابق ملک کی مقامی گیس مارکیٹ اور عام صنعتوں کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی ایل جی سپلائرز سے اظہارِ دلچسپی غیر پابند بنیادوں پر طلب کیا جارہی ہیں۔جبکہ دلچسپی رکھنے والی پارٹیز اپنی درخواستیں منصوبے کی ویب سائٹ www.PakOnshoreLNG.com کے ذریعے جمع کرواسکتی ہیں۔

    ایل این جی ٹرمینل پاکستان لمیٹید (ETPL) کے سی ای او یوسف صدیقی کے مطابق2015میں جب ملک میں توانائی کا شدید بحران تھا ہم نے اینگرو ایل این جی ٹرمینل (EETL) کوملک کی پہلی فلوٹنگ ایل این جی سہولت کے طور پر فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تعمیر کیا تھا۔پاکستان کی خوشحالی کیلئے ہم نے ووپاک کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کے طور پر توانائی کے شعبے میں زیادہ اثر پیدا کرنے کیلئے اشتراک کیا۔توانائی کی ضرورت میں متواتر اضافے کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ آنشور ٹرمینل کی تعمیرمیں سرمایہ کاری صحیح قدم ہے جس سے آپریشنز کو ہموار اور آنے والے عشروں تک پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے گا۔

    واضح رہے کہ ای ای ٹی ایل ٹرمینل پاکستان کی یومیہ قدرتی گیس کی ضروریات کا 15فیصد پورا کرتا ہے اور اس کا FSRU دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال شدہ فلوٹنگ اسٹوریج ری گیسیفیکیشن یونٹ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ای ای ٹی ایل ٹرمینل پر اب تک ایل این جی سے لدے 300سے زائد جہازوں کو کامیابی سے ہینڈل کیا جاچکا ہے جبکہ ٹرمینل کے ذریعے فراہم کردہ آر ایل این جی نے بجلی کی پیداواری لاگت میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں پیداواری اور معاشی نمو میں اضافہ ہوا۔ای ای ٹی ایل کے موجودہ FRSU کو تبدیل کرکے نیا جدید ترین FRSU لایا جارہا ہے جس سے اس سال کے آخر تک ٹرمینل کی صلاحیت میں 150mmscf/ dتک اضافہ ہوجائے گا۔

    اپنے مشترکہ شراکت داروں کے ساتھ ملکر ووپاک دو آنشور ٹرمینلز چلارہے ہیں جن میں ایک پورٹ آف روٹرڈیم، نیدرلینڈمیں واقع ہے جس کی سالانہ صلاحیت 12ارب (بی سی ایم اے)(8.5ایم ٹی پی اے)ہے جبکہ دوسرا ٹرمینل Altamira TLA میکسیکو کے مشرقی ساحل پر واقع ہے جس کی سالانہ صلاحیت 7.4بی سی ایم اے (5ایم ٹی پی اے)ہے۔اس کے علاوہ ووپاک ایل این جی نے کولمبیا میں واقع ایس پی ای سی ٹرمینل کے ساتھ بھی شراکت داری کر رکھی ہے جس کی تھروپٹ صلاحیت 4بی سی ایم اے(2.7ایم ٹی پی اے) ہے۔مجموعی طور پر ووپاک ایل این جی کی مشترکہ ایل این جی اسٹوریج صلاحیت 1,160,000 m3جبکہ تھرو پٹ صلاحیت 29.9بی سی ایم اے(20.2 mtpa) ہے۔