menu close
    press releases
    April 07, 2021

    !اینگرو کارپوریشن نے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

    کراچی: اینگرو کارپوریشن نے 31دسمبر2020کوختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیاہے۔
    مالیاتی کارکردگی کا جائزہ:
    گزشتہ سال تھر کے توانائی کے منصوبوں کے آپریشنز ہونے کے بعد سے کاروباری لحاظ سے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کمپنی کی مجموعی آمدنی میں 10فیصد اضافہ ہوا۔ کمپنی نے 2019کے 225.76 ارب کے مقابلہ میں 248.81 روپے منافع حاصل کیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع 46فیصد اضافے کے ساتھ 44.11ارب روپے رہا جبکہ مالکان کا قابلِ منسوب بعد ازٹیکس منافع گزشتہ سال 16.53ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 25.10ارب روپے رہا۔

    انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے اینگرو کارپوریشن کو پچھلے سال کی اسی مدت کے14.30ارب روپے کے مقابلے میں 16.30ارب روپے کا منافع ہوا جبکہ کمپنی کی فی حصص آمدنی28.29 روپے فی حصص رہی۔ انفرادی منافع میں اضافہ بنیادی طورپر ذیلی کمپنیوں کی جانب سے زیادہ ڈیوڈنڈ کی ادائیگی اورڈیوڈنڈپر 2019کے جزوی ریلیف کے مقابلے میں 2020میں مکمل انٹرکارپوریٹ ٹیکس ریلیف کی وجہ سے ہوا۔ کمپنی نے 2روپے فائنل کیش ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا ہے جوکہ مالی سال کے اختتام پر مجموعی طورپر26روپے ہوگیا ہے۔
    ذیلی کمپنیوں کی مالیاتی کارکردگی:
    فرٹیلائزر: 2020
    میں چیلنجز کے باوجودفرٹیلائزر کے کاروبار نے 2019کی 2003لاکھ ٹن کے مقابلے میں اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار 2264لاکھ ٹن پیداوار کا تاریخی سنگِ میل حاصل کیا۔ پلانٹ کے موئثر استعمال اور کم بندش اور گیس کی دستیابی کی وجہ سے پیداوار میں 13فیصد اضافہ ہوا۔ ڈی اے پی کے کم آف لوڈ اور جی آئی ڈی سی کے خاتمے کی وجہ سے یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ کمپنی کے فرٹیلائزر کے کاروبارکا منافع پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7فیصد اضافے کے ساتھ 18.13ارب روپے رہا۔
    پیٹرو کیمیکلز:
    لاک ڈاؤن کے دوران 2020کی پہلی سہ ماہی میں پلانٹ کی بندش کی وجہ سے 2020میں کمپنی کی پولیمرآمد نی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7فیصد کمی واقع ہوئی۔لاگت میں افادیت اور 2020کی دوسری سہ ماہی میں عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے پی وی سی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حجم میں کمی کو دورکیا گیا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کمپنی کی آمدنی میں 55فیصد اضافہ ہوا جو کمپنی کی تاریخ میں حاصل ہونے والا اب تک کا سب سے زیادہ منافع ہے۔
    2020میں درپیش چیلنجز کے باوجوداینگرو نے پیٹرو کیمیکل ورٹیکل میں تجربات جاری رکھی ڈی ہائیڈروجیشن پلانٹ پر مبنی پرولین سہولت کے فزیبلٹی اسٹڈی پر کافی پیش رفت کی ہے۔
    انرجی اینڈ پاور:
    تھر میں توانائی اور کوئلے کی کان کی کھدائی اور پاور پلانٹ کے آپریشنز بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ اسی مدّت میں کان کے ذریعے فراہم کردہ 3.8ملین ٹن کوئلے سے پیدا ہونے والی 4.032 gwHبجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی گئی جبکہ کان کی توسیع کے ساتھ ساتھ اس کی موجودہ صلاحیت کو دگنا کرنے کیلئے تعمیراتی کام جاری ہے۔
    قارپور پاور پلانٹ جو گیس بیسڈ پلانٹ ہے قادر پور گیس فیلڈ ختم ہونے کی وجہ سے گیس کی کمی کا شکاررہا۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے پلانٹ کو مکسڈ موڈ پرمنتقل کردیا گیا۔ اس عرصے کے دوران پلانٹ نے پچھلے سال کے اسی عرصے کے 58.8فیصد کے مقابلے میں 29.5فیصد لوڈ فیکٹر کو نیٹ الیکٹریکل آؤٹ پٹ کے ساتھ 550 GwHبجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی۔
    2020میں اینگرو پاورجن قادرپور نے آئی پی پیز کے ساتھ قائم کی گئی کمیٹی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ای پی کیو ایل اور سی پی پی اے اجی بائنڈنگ معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس معاہدے کے تحت ای پی کیوایل کو 30نومبر 2020تک کے تمام بقایاجات 2021میں 2قسظوں میں ادا کیے جائیں گے اور ای پی کیو ایل قومی مفاد میں ایکویٹی پر واپسی کم کردے گی۔
    ٹرمینلز:
    کمپنی کی جانب سے قائم کردہ ملک کے پہلے ایل این جی ٹرمینل نے اس سال ایل این جی سے لدے 72جہازوں کو ہینڈل کیا۔ ٹرمینل نے 215.4بی سی ایف ری گیسیفائیڈایل این جی سوئی سدرن گیس کمپنی کے نیٹ ورک میں شامل کی جوکہ اس وقت ملکی گیس کے 12فیصد برابر ہے۔
    اسی دوران اینگر ووپیک ٹرمینل نے 2017کے240کے ٹی ایل پی جی کے مقابلے میں اس سال 246کے ٹی ایل پی جی ہینڈل کرکے نیا یکارڈ قائم کیا۔ دوسری طرف کووڈ 19کی وجہ سے Phos Acidاور Paraxylene کی کم درآمد کی وجہ سے ای وی ٹی ایل کے کیمکل کے حجم میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
    کنیکٹیوٹی:
    اینگرو نے اینگرو انفرا شیئر کے ذریعے سرمایہ کاری جاری رکھی اور پاکستان میں تمام موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کو سروس فراہم کرتے ہوئے اپنی آپریشنل سائیٹس کو 1265تک بڑھاکر اپنے پورٹ فولیو کو توسیع دی ہے۔ پورٹ فولیو میں توسیع کے نتیجے میں انڈیپنڈیٹ ٹاور کمپنی کے طورپرمارکیٹ شیئر 2019کے 18فیصد کے مقابلے میں 2020میں 41فیصدتک بڑھا دیا ہے۔
    کووِڈ 19اور حسین داؤد کا عزم:
    کووِڈ19وبائی مرض ایک عالمی چیلنج ہے جو آج دنیا بھر میں لوگوں کی صحت، معیشتوں اور معاشروں پر تباہ کن اثرات مرتب کررہی ہے۔ عالمی سطح پر ویکسینیشن پروگرام شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان بھی مختلف مینوفیکچررز سے کووِ ڈ19کی ویکسین خرید رہا ہے اور 2021کی پہلی سہ ماہی میں کووِڈ19کی ویکسی نیشن مہم شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
    اس مشکل کے باوجود اینگرو کارپوریشن تمام پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ کووِڈ 19کی وبائی مرض کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے حسین داؤد نے اپنی فیملی، اینگرواور داؤد ہرکولیس گروپ کی جانب سے مختصر، درمیانی اور طویل المدّت خدمات کیلئے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا۔اس امداد میں سے بیماریوں سے بچاؤ، ہیلتھ کیئر پریکٹیشنرزاور فرنٹ لائن ورکرز کی حفاظت اور ان کی ٹریننگ، مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کو فراہم کی جانے سہولیات کو یقینی بنانے اورمعاشرے کے سب مستحق افراد تک ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اب تک 301ملین روپے عطیہ کیے جاچکے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ زندگی بچانے اور معاشرے کی بہتری کیلئے کی جانے والی کوششوں کیلئے اقدمات مکمل طورپر شفاف ہونے چاہئیں۔ اس عزم اور اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات https://www.hussaindawoodpledge.com پر دیکھی جاسکتی ہیں۔