menu close
    press releases
    January 26, 2021

    اینگرو ایلنجی ٹرمینل نے پانچ سالوں میں 20ملین ٹن ایل این جی کی منتقلی کا ریکارڈ قائم کردیا

    ایل این جی کی منتقلی کیلئے ٹرمینل پر 322جہازوں کو ہینڈل کیا گیا۔ یہ کسی بھی فلوٹنگ ٹرمینل کے ذریعے ہینڈل کیا جانے والا ایل این جی کا سب سے زیادہ حجم ہے۔ ٹرمینل کے ذریعے ہینڈل کی جانے والی ایل این جی سے ملک میں پانچ سالوں میں 3ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی۔

    نیدر لینڈ کی کمپنی رائل ووپاک اور اینگرو کارپوریشن کے مشترکہ منصوبے اینگرو ایلنجی لمیٹڈ(ای ای ٹی ایل) کے تحت قائم کئے جانے والے پاکستان کے پہلے ایل این جی ٹرمینل نے ملک میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنے پانچ سالہ قابلِ بھروسہ آپریشن کے دوران ایل ین جی کی صنعت کیلئے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ مارچ 2015میں اپنے آپریشنز کے آغاز کے بعد سے ای ای ٹی ایل نے ایل این جی سے لدے ہوئے 322کارگو ہینڈل کرکے 20ملین ٹن ایل این جی کی منتقلی کو یقینی بنایا ہے جو کسی بھی فلوٹنگ ٹرمینل کے ذریعے ہینڈل کیا جانے والا ایل این جی کا سب سے زیادہ حجم ہے۔ ٹرمینل نے قدرتی گیس کی 1000بلین مکعب فٹ (بی سی ایف)کی ترسیل کرکے ایک اور سنگِ میل بھی حاصل کرلیا ہے جو تقریباً175ملین میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے درکار توانائی کے برابر ہے۔ واضح رہے کہ ای ای ٹی ایل فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن یونٹ(ایف ایس آر یو)ایکسکیوسٹ استعمال کرتا ہے جو ایکسیلیریٹ انرجی اور نکیلاٹ کی مشترکہ ملکیت ہے۔

    کمپنی سے جاری اعلامیئے کے مطابق 332دن کی قلیل مدت میں تعمیرکئے جانے والے ای ای ٹی ایل کو دنیا میں تیز ترین تعمیر شدہ اور سب سے زیادہ استعمال شدہ ری گیسیفیکیشن ٹرمینلز میں سے ایک کے طور پر پہیچانا جاتا ہے۔ٹرمینل میں 150900کیوبک میٹر گیس ذخیرہ کرنے گنجائش جبکہ روزانہ 690ملین کیوبک فیٹ ری گیسیفیکیشن کی صلاحیت موجود ہے۔ٹرمینل اس وقت ملک کی مجموعی گیس کی ضروریات کا 15فیصد پورا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگے درآمدی فرنس آئل کے درآمدی متبادل کے ذریعہ قومی خزانے کو تین ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوچکی ہے۔

    اینگرو کارپوریشن کے صدر اور سی ای او غیاث خان نے اس اہم سنگِ میل کی کامیابی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اینگرو نے پاکستان کے ایل این جی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی تاکہ ملک میں توانائی کی قلت جیسے اہم مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔آج ہم نے پاکستان کو ایل این جی مارکیٹ کے عالمی نقشے پر ڈال دیا ہے اور اس شعبے میں آنے والی نئی سرمایہ کاری کیلئے راہیں ہموار کردی ہیں۔ ای ای ٹی ایل پاکستان میں طویل مدّتی بنیادوں پر توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پورٹ قاسم پر اوپن ایکسس ایل این جی ٹرمینل کی تیاری کرکے ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

    اس موقع پر اینگرو وپاک اور ایلنجی ٹرمینل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف صدیقی نے کہا کہ رائل ووپاک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم ملک میں معاشی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے اعلیٰ مہارت اور توسیع کے منصوبوں کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کی بعداینگرو ایلنجی ٹرمینل(ای ای ٹی ایل) اور اس کے شراکت دار ایکسیلیریٹ نے زیادہ تکنیکی اورجدید ایف ایس آر یو سیکوئیا(Sequoia)حاصل کرلیا ہے جو تما م انضباطی اور ایس ایس جی سی کی منظوری کے بعد 2021میں پورٹ قاسم پہنچنے کیلئے تیار ہے۔نیا  ایف ایس آر یو سیکوئیا(Sequoia)آنے کے بعد ٹرمینل کی گنجائش 150ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد جبکہ  ذخیرہ کرنے کی گنجائش 25000کیوبک میٹر سے زائد ہوجائے گی جس سے ملک میں گیس کی فراہمی میں پیدا ہونے والی قلت کو دور کرنے میں خاظر خواہ مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سرکاری ایل این جی سپلائی چین کے اخراجات میں روزانہ کی بنیاد پر 45000امریکی ڈالر سے زائد کی ممکنہ بچت کرسکتا ہے۔ اس سیکٹر میں نجی شعبہ تھرڈ پارٹی ایکسز فریم ورک (ٹی پی اے)کے تحت سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔اگر اس شعبے کو ٹی پی اے کے تحت کھول دیا جاتا ہے تو یہ اونشور ایل این جی اثاثہ پاکستانی گیس مارکیٹ کے ارتقاء کی طرف اہم قدم ہوگا۔اسی سلسلے میں اینگرو اور رائل ووپاک پہلے ہی ایک مشترکہ منصوبے کا اعلان کرچکے ہیں جس کو اگلے 12سے 14مہینوں میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ پی ٹی آئی حکومت کی سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے اینگرو اور اس کے مشترکہ منصوبے کے شراکت دار رائل ووپاک کے ذریعے اینگرو ایلنجی ٹرمینل اور اینگرو وپاک ٹرمینل میں 600ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔