menu close
    اینگرو ایلنجی ٹرمینل

    توقعات سے بڑھ کر کارکردگی

    اینگرو انرجی ٹرمینل لمیٹیڈ(ای ای ٹی ایل) نے پورٹ قاسم پر پاکستان کا پہلا ایل این جی ٹرمینل قائم کیا جو صرف 335 روز کی ریکارڈ مختصر مدت میں تعمیر ہوا۔

    پیداواری لاگت کے لحاظ سے یہ خطے کے انتہائی باکفایت ٹرمینلز میں سے ایک ہے۔ اس کی ایل این جی ریگیسی فکیشن کی گنجائش600 ایم ایم سی ایف ڈی  یا 4.5 ملین ٹن سالانہ ہے۔

    اس ٹرمینل کے ذریعے فراہم کی جانے والی ایل این جی  نے بجلی کی پیداواری لاگت 40فیصد تک کم ہونے کے ساتھ ساتھ،پاکستان بھر میں صنعتی پیداوار اور معاشی بڑھوتری کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ایل این جی کی ہینڈلنگ کا ٹھیکا ملنے کے بعد اینگرو انرجی ٹرمینل لمیٹڈ نے، جوکہ 80فیصد اینگروکارپوریشن کی ملکیت ہے،فلوٹنگ ایل این جی  ریگیسی فکیشن سروسز کے حوالے شہرت یافتہ امریکا کی مشہور کمپنی ’ایکسلریٹ انرجی‘ سے ایک فلوٹنگ اسٹوریج ریگیسی فکیشن یونٹ ( ایف ایس آر یو) حاصل کیا ہے۔

    • 588.5
      اوسط

      یومیہ گیس کی ترسیل

      دسمبر 2020 تک

    • 50%
      پاکستان کے

      ایل این جی امپورٹ اور ری گیسی فکیشن کی سہولت

      دسمبر 2020 تک

    • 5.2%
      contribution

      اینگرو کی نچلی سطح میں حصہ

      دسمبر 2020 تک

    • PKR
      11mn

      سی ایس آر سے متعلق سرگرمیوں پر اخراجات

      دسمبر 2020 تک

    ایل این جی کی کنورژن

    یہ فیسلیٹی ایک ایل این جی جیٹی،بشمول ایک ساڑھے 7کلومیٹر ہائی پریشر گیس پائپ لائن پر مشتمل ہے۔ یہ پائپ لائن ’اینگروایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ‘ ( ای ای ٹی پی ایل) کے واحد صارف سوئی سندھ گیس کمپنی لمیٹڈ،جوکہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہے، کے گرڈ سے منسلک ہے۔ای ای ٹی پی ایل ایک پندرہ سالہ فلوٹنگ اسٹوریج اینڈ ریگیسی فگیشن یونٹ( ایف ایس آریو) ٹائم چارٹر رکھتی ہے۔

    ’ایف ایس آر یو‘ کو طویل المیعاد معاہدوں کے تحت مختلف ممالک سے ایل این جی کیریئرز کے ذریعے محلول گیس سپلائی کی جاتی ہے، جوکہ ’ ای ای ٹی پی ایل‘ کی جیٹی پر پہنچنے کے بعد اس کی پائپ لائن سے منسلک کردی جاتی ہے۔ ایف ایس آر یو پر ریگیسی فکیشن کا عمل ہوتا ہے اورپھر گیس زمین پر منتقل ہوکر ہائی پریشر کے ذریعے کسٹمر کے گرڈ میں داخل ہوجاتی ہے۔

    دنیا میں یوٹیلائزیشن کی بلند ترین سطح پر کام کرتے ہوئے، مہنگے فرنس آئل کی درآمد کے متبادل کے طور پر اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ قومی خزانے کو 1.2ارب ڈالر سے 1.5ارب ڈالر کے درمیان بچت فراہم کررہا ہے۔

    مزید برآں پاکستان بھر میں 750 سے زائد سی این جی اسٹیشنز کے ساتھ ایل این جی درآمد کی یقین دہانی سے تیزی سے بڑھتا ہوا ایل این جی ایکو سسٹم اور تبدیل ہوتی معاشی سرگرمیوں کو زبردست نمو حاصل ہوئی ہے،جبکہ بلاتعطل گیس کی فراہمی نے بھی فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل انڈسٹریز کے احیاء میں اہم کردار ادا کیاہے جس کے نتیجے میں قومی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    رائل ووپیک کے ساتھ اشتراک

    اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ(اینگرو کارپوریشن آف پاکستان)اور نیدرلینڈز کی رائل ووپیک کے مابین حصص کی خریداری سے متعلق ایک معاہدہ ہوا ہے جس میں ’ووپیک‘ کو ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ( ای ٹی پی ایل) میں 29فیصد شیئرزحاصل ہوں گے۔

    اس عمل کی تکمیل کے بعد ’ ای ٹی پی ایل‘ کے حصص یافتگان  اینگرو کارپوریشن،ووپیک اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ہوں گے۔ یہ نیا قدم  پاکستان کی بڑھتی ہوئی ایل این جی مارکیٹ میں ووپیک کی شاندارآمد کا موجب بنا ہے۔